کشمیر اور دفعہ 35 اے 

کشمیر اور دفعہ 35 اے 
کشمیر اور دفعہ 35 اے 
مکرمی: والمیکی(دلت) 1957میں کشمیر صوبائی حکومت کے ذریعے جموں کشمیر لائے گئے۔ اس وقت موجودہ اور مستقبل کی نسلیں جھاڑو اور چھوٹے کاموں میں لگے۔ والمیکیوں کو مستقل طور پر رہائش کا اختیار نہیں دیا گیا تھا۔ان کی خواتین کو سیاسی، سماجی اور روزگار حاصل نہیں کر سکی تھیں۔یہ سب دفعہ 35Aکی وجہ سے جموں کشمیر میں ہو رہا تھا۔یہ دفعہ غیر آئینی اور استحصال والی اور تفریق والی تھی۔دفعہ 35A جموں کشمیر اسمبلی مستقل رہائش اور پی آرسی کیلئے اجازت دی تھی۔مزید یہ یہ قانون پی آر سی حقوق پانے والے کے درمیان بھی تفریق کا باعث تھا.دفعہ 35A کا نفاذ بغیر کسی رائے مشورہ کےصدر جمہوریہ کے ذریعہ ہوا جو کہ بالکل غیر آئینی اور بنیادی حقوق کے خلاف تھا۔ صرف پی آرسی تمام قسم کے حقوق فراہم کرتا تھا جیسے حکومتی اور سماجی کام۔ پی آر سی کے باعث تعلیم یافتہ ڈاکٹر اور ریسرچ اسکالر جموں کشمیر میں کام نہیں کر سکتے تھے۔ جموں کشمیر کے تعلق سے ایک غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ اس پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے۔ جبکہ 1929 میں راجہ ہری سنگھ نے ایک قانون پاس کروایا کہ اگر کوئی خاتون غیر کشمیری سے شادی کرتی ہے تو اس کی کشمیر کی شہریت ختم کر دی جائے گی۔ یہ قدیم قانون 2002 میں کشمیر ہائی کورٹ کے ذریعہ مسترد کر دیا گیا۔ لیکن 2019میں صوبہ کی خواتین اپنے بچوں کے حقوق اور مستقل رہائش کا قانون خود کشمیر کے ذریعہ پاس نہیں ہو سکا۔ ہری سنگھ نے معاشی ترقی کیلئے مذکورہ قانون بنایا تھا برطانوی حکومت کے زیر انتظام ۔ پڑوسی صوبہ پنجاب کی آبادی کے اثر سے بچانے کیلئے بھی یہ قدم اٹھایا تھا۔ 2002میں ہائی کورٹ محدود جنسی اخلاقیات کے دائرے میں رکھا ۔اس کا زبردست اثر دیکہنے۔کو ملا۔جموں کشمير ہمیشہ ایک  خصوصی ریاست کو لیکر بحث۔کا موضوع رہا ہے۔35اے کو تنہا چھوڑ جائے۔نہ کشمیر کے ہندواور نہ ہی لیہہ کے بودھسٹ گزشتہ 72برس سے گھاٹی میں بسنے کی کوشش کرتے رہے۔اس کے علاوہ پنڈت اور مسلمان بھی ایک بڑی تعداد میں ہجرت کے کرے ملک کے مختلف حصے میں بسے۔
محمد یونس
نئ دہلی
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *